غزل
جو میرا تھا ہی نہیں اس سے نبھانا کیا تھا
روٹھنا کیا تھا میرا اسکا منانا کیا تھا
کوئی احساس تعلق میں کہیں تھا ہی نہیں
روگ تھا روگ اسے جوگ بنانا کیا تھا
جہاں الفاظ کے نشتر ہی بنیں ایزا رساں
زخم دینے کو وہاں۔ ہاتھ اٹھانا کیا تھا
وہ مجھے لینے بھی آتا تو نہ جاتی ہر گز
چھوڑے گاؤں کی طرف لوٹ کے جانا کیا تھا
رو برو رہ کے جو قائل نہیں کر پایا تھا
ایسے انسان کا پھر فون اٹھانا کیا تھا
ہر خسارہ میری قسمت سے جڑا تھا ما ہ ر خ
پھر محبت کی تجارت میں کمانا کیا تھا
ما ہ رخ زیدی

0 Comments
We Love and Respect you a lot so please do not enter any spam link in the comment box.