غزل معاملہ شک نہیں یقین کا ہے سانپ میری ہی آستین کا ہے نا تو پانی کا نہ ہواؤں کا آدمی جانور زمین کا ہے ۔ میں کسی اور کی پری وِش ہوں وہ کسی اور ماہ جبین کا ہے ۔ روٹی ،کپڑا، مکان کے نعرے اب بھی جھگڑا تو صرف تین کا ہے ۔ وہ سپیرا ہی اسکو پکڑے گا سانپ دیوانہ جسکی بین کا ہے ۔ گھر خدا کا دلیل ہے خود ہی ہے مکاں تو کسی مکین کا ہے ۔ لومیناتی (luminati)تو اس جہان کے ہیں میرا مولا تو عالمین کا ہے ۔ میں تو ح حق کی بات کرتی ہوں شک میں سارا شرر ہی ش کا ہے ۔ ما ہ رخ یوں تو ہوں میں سادہ…
Follow Us