غزل
سب محبت کی چال بازی ہے
جسم زخمی ہے روح راضی ہے
میری برباد یوں کی قصے میں
آپکی بھی کرم نوازی ہے
ہوگئے کیوں نفی میں ہم تقسیم
یہ جمع خرچ بس ریاضی ہے
ہم تو تھا ، تھے بھی کر نہیں سکتے
حال جیسا ہے ویسا ماضی ہے
چوٹ جو دل پہ کھائی تھی ما ہ رخ
اب بھی گہری ہے اور تازی ہے ۔
ما ہ ر خ زیدی
0 Comments
We Love and Respect you a lot so please do not enter any spam link in the comment box.