غزل سب محبت کی چال بازی ہے جسم زخمی ہے روح راضی ہے میری برباد یوں کی قصے میں آپکی بھی کرم نوازی ہے ہوگئے کیوں نفی میں ہم تقسیم یہ جمع خرچ بس ریاضی ہے ہم تو تھا ، تھے بھی کر نہیں سکتے حال جیسا ہے ویسا ماضی ہے چوٹ جو دل پہ کھائی تھی ما ہ رخ اب بھی گہری ہے اور تازی ہے ۔ ما ہ ر خ زیدی
Follow Us